حرفِ نیاز
1

مُونِس ہے نہ غم خَوار ہے فریاد ہے فریاد

خونبار دِلِ زار ہے فریاد ہے فریاد

2

پوشیدہ نِگاہوں سے اگر قبلۂ جاں ہے

پھر زِندگی دُشوار ہے فریاد ہے فریاد

3

بے عِشقِ نبیؐ کوئی جیا بھی تو جیا خاک

وہ خاک کا انبار ہے فریاد ہے فریاد

4

اِس جانِ وفا سے جو رہِ رسم نہیں ہے

ہر راستہ دیوار ہے فریاد ہے فریاد

5

وہ دِل جو محمدؐ کی محبت سے ہے خالی

بے یار و مددگار ہے فریاد ہے فریاد

6

چھائے ہوئے ہیں چاروں طرف خوف کے بادل

طوفان ہے مُنجدھار ہے فریاد ہے فریاد

7

خیرات ملے اِس کو بھی حسنین؟ کے صدقے

ساؔجِد بڑا نادار ہے فریاد ہے فریاد