← حرفِ نیاز
1
نِیاز مند ہوں دربارِ مصطفائی؟کا
نہیں ہے شوق ذرا بھی مجھے خدائی کا
2
کہاں یہ تاب ہے ذرّے میں مہر تک پہنچے
خِیال خام ہے تُجھ تک مِری رسائی کا
3
نبیؐ کی بزم میں لازم طہارتِ دِل ہے
ہے التزام یہاں روح کی صفائی کا
4
یہ کل کی بات نہیں واقعہ اَزَل کا ہے
طویل قصّہ مِری اُن سے آشنائی کا
5
نبیؐ کی ذات ہے مظہرِ خُدا کی قدرت کی
قصیدہ خواں ہوں خُدایا! تِری خدائی کا
6
خُدا کا شُکر ہے ساؔجِد نبیؐ کے گُلشن میں
مجھے مَقام ملا زمزمہ سرائی کا