جانِ جہاں

لاکھ گہرا زخمِ دِل ہو عِشق کے آزار کا

ایک رحمت کی نظر ہے چارہ اِس بیمار کا

پرتوِ ذاتِ خُدا ہے سیّدِ عالَم کی ذات

کعبۂ جاں، گوشِ اُن کے ابروئے خم دار کا

مصطفیٰ ﷺ کی ہے زیارت دیدِ خلّاقِ جہاں

ذات کی تصویر، جلوہ آپ ﷺ کے رخسار کا

اب بھی اُن کی خاک کی خُوشبو مشامِ جاں میں ہے

یاد نظارہ ہے اُن کے کوچہ و بازار کا

مصطفیٰ ﷺ کے شہر کی آب و ہوا پُر لُطف ہے

کیا جاں پرور ہے سایہ آپ ﷺ کی دیوار کا

بھول سکتا ہی نہیں ہے دِل وہ نقشۂ جاں فِزا

احَد کو بہار⚠️ کا اور گُنبدِ مینار کا

حُبِّ محبوب ﷺ خُدا کو چاہیے مہر و نِیاز

کام کیا ساجدؔ یہاں ہے بحث و دستار کا