نور و سرور
1

کون ایسے سرِ محفِل ہوئے آئے

آپؐ کے کون مقابل ہوئے آئے

2

اے خُدا! میں بھی مدینے پہنچوں

اے خُدا! میری بھی منزِل آئے

3

نہ مگر آیا ابھی شہرِ مراد

سامنے کتنے ہی ساحل آئے

4

اُن کی محفِل میں جو بیٹھے دم بھر

ہو کے اللہ کے واصِل آئے

5

اُن کی شفقت سے یہ آسان ہوئے

کتنے ہی سخت مراحل آئے

6

دیکھتا ہی میں رہوں رُوئے نبیؐ

آرزو کا میری حاصل آئے

7

خوب رُو کون ہے ساؔجِد اُن سا

اَن گِنت حُسنِ شمائل آئے