← نور و سرور
کون ایسے سرِ محفِل ہوئے آئے
آپؐ کے کون مقابل ہوئے آئے
اے خُدا! میں بھی مدینے پہنچوں
اے خُدا! میری بھی منزِل ہوئے آئے
نہ مگر آیا ابھی شہرِ مراد
سامنے کتنے ہی ساحل ہوئے آئے
اُن کی محفِل میں جو بیٹھے دم بھر
ہو کے اللہ کے واصِل ہوئے آئے
اُن کی شفقت سے یہ آسان ہوئے
کتنے ہی سخت مراحل ہوئے آئے
دیکھتا ہی میں رہوں رُوئے نبیؐ
آرزو کا میری حاصل ہوئے آئے
خوب رُو کون ہے ساجد اُن سا
اُن گنت حُسنِ شمائل ہوئے آئے