نور و سرور
1

آئے ہیں ہم ہجومِ تمنّا لیے ہوئے

دستِ طلب میں وسعتِ صَحرا لیے ہوئے

2

پہلی نِگاہ میں ہی تماشا وہ بن گئے

آئے جو دِل میں شوقِ تماشا لیے ہوئے

3

ہر چیز دُھل کے روشنی میں چاند ہو گئی

جب آئے مصطفٰیؐ رُخِ زیبا لیے ہوئے

4

بَطحا کی سِمت قافلے دِن رات ہیں رواں

رفتار میں روانیٔ دریا لیے ہوئے

5

اُن کے غلام ذات میں اپنی ہیں انجمن

بیٹھے ہیں دِل میں نُور خُدا کے لیے ہوئے

6

حقِ کا رسُولؐ مظہرِ اکمل ہے ذات کا

اِک دِل نشیں حَسینؓ سراپا لئے ہوئے

7

ساؔجِد بشر اسیرِ الَم تھا کہ آنجنابؐ

بہرِ نَجات آئے سویرا لیے ہوئے