نور و سرور
1

ساماں سُکونِ قلب کا نام آپؐ ہی کا ہے

بعد از خُدا بزرگ مَقام آپؐ ہی کا ہے

2

بھرتا جہاں ہے دامَنِ دِل آپؐ کا ہے در

بُجھتی ہے جِس سے تَشنَگی ‘ جام آپؐ ہی کا ہے

3

حرفِ غلط تھا ‘ مٹ گئی باطِل کی داستاں

لوحِ جہاں پہ نقشِ دوام آپؐ ہی کا ہے

4

ہر اِک سوال کا وہ کامِل جواب ہے

ہر جہت پہ مُحیطِ نِظامِ آپؐ ہی کا ہے

5

تخلیق کی کتاب کا دیباچہ آپؐ ہیں

اور انبیاءؐ میں آخری نامِ آپؐ ہی کا ہے

6

پل بھر میں اِس زمیں سے گیا لامَکاں میں کون

اللہ ‘ یہ کمالِ خرام آپؐ ہی کا ہے

7

ساؔجِد کو خاص اِذنِ حضوری ہو اے کریم!

بیٹھا رہے گا در پہ غُلام آپؐ ہی کا ہے