← نور و سرور
1
اُن کی رحمت سے سبھی رنگ نکھر جاتے ہیں
بخت ہوں بگڑے ہوئے لاکھ سنور جاتے ہیں
2
غم کے سیلاب ہوں کتنے ہی قِیامت بکنار
پار ہم اُن کے اشارے سے اتر جاتے ہیں
3
مِہرباں جن پہ ہیں سرکار وہ عاقبت سے
آگ کے گہرے سَمُندر سے گزر جاتے ہیں
4
آپؐ کی بزمِ پُر اَنوار سے ہر شام و سحر
روشنی مانگنے خورشید و قمر جاتے ہیں
5
اُن کے مشتاق ‘ یہ در چھوڑ کے جاتے ہیں کہاں
پھر یہیں لوٹ کے آنے کو وہ گھر جاتے ہیں
6
خُوش نصیب ایسے بھی ہیں جن کو حضوری ہے مُدام
انجمن ساتھ ہے اِن کے وہ جِدھر جاتے ہیں
7
بھر کے آتے ہیں وہ دامانِ تمنا ساؔجِد
آپؐ کی سِمت جو بادیدۂ تر جاتے ہیں