← نور و سرور
1
سفر نصیب ہو میرے خُدا! مدینے کا
ہے دِل میں شوقِ زیارت بڑا مدینے کا
2
نظر فروز بہاروں کا کچھ تو حال سنا
پَیام لا کوئی بادِ صبا! مدینے کا
3
دِلوں کے پھول ہمیشہ کِھلے کِھلے ہیں یہاں
سدا بہار کا موسم ہُوا مدینے کا
4
بڑے مزے کی ہیں شیرینیاں مِرے منہ میں
کہ لب پہ نام ہے صلِّ علیٰ مدینے کا
5
ہر ایک ذرہ محبت کی روشنی کا چِراغ
ہر ایک گوشہ ریاضِ وفا مدینے کا
6
بہت ہے دِل مِرا بے تاب حاضری کے لیے
زُباں پہ ذِکر ہے صُبح و مسا مدینے کا
7
دعائیں دے گا یہ قلبِ حَزیں تجھے ساؔجِد
تُو چھیڑ ذِکرِ مُبارَک ذرا مدینے کا