← نور و سرور
الَم کی رات کٹے، عیدِ کی سحر آئے
ہو جس سے دِل میرا شاداب وہ نظر آئے
نبیؐ کی یاد میں کیا عطا ہُوا دِل کو
نبیؐ کے شوق میں کیا حَسِیں نظر آئے
میں کائنات کا حُسن و جمال نذر کروں
رُخِ رسُولؐ خُدا گر مجھے نظر آئے
نِگاہِ شوق جھُکی جارہی ہے سجدے میں
نظر کے سامنے طَیَّبہ کے بام و در آئے
کوئی نہ پہنچا اُس امّیؐ لقب کی دانش کو
جہاں میں لاکھ خردمند باہنر آئے
حبیبؐ حق کے ہوا اور کچھ نظر میں نہیں
حبیبؐ حق پہ ہی ہر انجمن نظر آئے
نِگاہِ لُطف نے ساجد کو حیات تو بخشی
عَبث عِلاج کرنے چارہ گر آئے