حرفِ نیاز

بَلائیں لیتا ہے عرشِ بَریں مدینے کی

ہے آسماں سے بھی اُونچی زمیں مدینے کی

ہے جلوہ گاہِ نبیؐ رحمتوں کا گہوارہ

فضا ہے کتنی جمیل و حَسِیں مدینے کی

نبیؐ کے شہرِ مقدس کی بات کر زائر!

ہے داستاں بہت دِل نشیں مدینے کی

نکال راہ کوئی تَشنَگی بجھانے کی

سبیل ڈھونڈ کوئی ہم نشیں مدینے کی

قسم خُدا کی بڑی قیمتی ہے یہ مٹی

ہے موتیوں سے بھری سرزمیں مدینے کی

نبیؐ کے شہر سے لوٹے ہیں قافلے ساجدؔ

چلی ہوائے نِشاط آفریں مدینے کی