← حرفِ نیاز
1
اِدھر بھی بادِ صبا! لا پیام بطحا کا
مِرے لبوں پہ کب آئے گا نام بطحا کا
2
حدیثِ شہرِ نبیؐ کس قدر ہے جاں اَفزا
سکوں نواز ہے بے حد کلام بطحا کا
3
نبیؐ کے شہر سے تعبیر حُسن‘ عالم کا
میں چومتا ہوں بصد شوق نامِ بَطحا کا
4
خِرد کی آنکھ بہت کم نظر ہے آؤ چلیں
نگاہِ عشق سے پوچھیں مقام بطحا کا
5
بقدرِ ظرف سمایا ہر ایک دِل میں نشہ
ہے فیض یافتہ ہر خاص و عام بَطحا کا
6
زمانے بھر کی نِگاہوں میں محترم ہیں وہی
جنہوں نے دل سے کیا احترام بطحا کا
7
حریمِ جان ہے روشن بفیضِ یادِ نبیؐ
بجان و دِل ہوا ساؔجِد غلامِ بطحا کا