← حرفِ نیاز
1
اِدھر بھی کرم کی نظر ہو رہی ہے
شبِ زِندگی کی سحر ہو رہی ہے
2
نوازش مِرے حال پر ہو رہی ہے
بڑے ہی مزے میں بسر ہو رہی ہے
3
یہ کون آ گیا ہے خیالوں میں میرے
کہ خَلوت بھی اب نغمہ گر ہو رہی ہے
4
طلب سے سِوا ہیں عِنایات اُن کی
گَدا پر عطا بیشتر ہو رہی ہے
5
رُخِ مصطفؐےٰ جِس نظر میں سمایا
وہ حق میں حقیقت نگر ہو رہی ہے
6
نہ گِرنے کا خطرہ نہ لُٹنے کا خدشہ
بسر ہر گھڑی بے خطر ہو رہی ہے
7
محبت کے نغموں کی برسات آئی
ہر ایک آنکھ محفِل میں تر ہو رہی ہے
8
مِرا دِل بھی ہے موردِ لطف ساؔجد
مِرے حال پر بھی نظر ہو رہی ہے