حرفِ نیاز

اِدھر بھی کرم کی نظر ہو رہی ہے

شبِ زِندگی کی سحر ہو رہی ہے

نَوازِش مِرے حال پر ہو رہی ہے

بڑے ہی مزے میں بسر ہو رہی ہے

یہ کون آ گیا ہے خیالوں میں میرے

کہ خَلوت بھی اب نغمہ گر ہو رہی ہے

طلب سے سِوا ہیں عِنایات اُن کی

گَدا پر عطا بیشتر ہو رہی ہے

رُخِ مصطفیٰؐ جس نظر میں سمایا

وہ حق میں حقیقت نگر ہو رہی ہے

نہ گرنے کا خطرہ نہ لُٹنے کا خدشہ

بسر ہر گھڑی بے خطر ہو رہی ہے

محبت کے نغموں کی برسات آئی

ہر ایک آنکھ محفِل میں تر ہو رہی ہے

مِرا دِل بھی ہے موردِ لُطف ساجدؔ

مِرے حال پر بھی نظر ہو رہی ہے