← نور و سرور
فی الحقیقت ہے وہی بے خود و سر شار بہت
شاہِؐ عالَم کی ہے اُلفت میں جو بیمار بہت
اب تو اللہ مِری چارہ گری فرمائیں
زخم کھائے میری جاں نے مِرے سرکارؐ بہت
ساتھ گر اُن کا کرم ہو تو ہے آسان سفر
رہگزر ورنہ محبت کی ہے دُشوار بہت
سارے عالَم سے مدینے کی بہاریں ہیں جُدا
ہم نے دیکھے ہیں طربناک چَمن زار بہت
اُن کی غمخواری کا ہے دونوں جہاں میں چرچا
اپنوں بیگانوں کے یکساں ہیں وہ غمخوار بہت
اُن سا محبوب مگر کوئی نہیں کوئی نہیں
یُوں تو اِس دُنیا میں ہیں دلبر و دلدار بہت
شاعرِ نعت پہ دِل میرا فِدا ہے ساجد
اچھے لگتے ہیں اگرچہ مجھے فنکار بہت