← نور و سرور
1
فی الحقیقت ہے وہی بے خود و سر شار بہت
شاہِؐ عالَم کی ہے اُلفت میں جو بیمار بہت
2
اب تو للّٰہ مِری چارہ گری فرمائیں
زخم کھائے میری جاں نے میری سرکارؐ بہت
3
ساتھ گر اُن کا کرم ہو تو ہے آسان سفر
رہگزر ورنہ محبت کی ہے دُشوار بہت
4
سارے عالَم سے مدینے کی بہاریں ہیں جُدا
ہم نے دیکھے ہیں طربناک چَمن زار بہت
5
اُن کی غمخواری کا ہے دونوں جہاں میں چرچا
اپنوں بیگانوں کے یکساں ہیں وہ غمخوار بہت
6
اُن سا محبوب مگر کوئی نہیں کوئی نہیں
یُوں تو اِس دُنیا میں ہیں دلبر و دلدار بہت
7
شاعرِ نعت پہ دِل میرا فِدا ہے ساؔجِد
اچھے لگتے ہیں اگرچہ مجھے فنکار بہت