ذوقِ جمال

رہتا ہے رات دِن دِل و جاں میں خِیالِ گُل

پایا زمیں نے پائے نبیؐ سے بہار گُل

یہ خشکلی⚠️، شکنگلی⚠️، منزِلِ کے مرطلے⚠️

اوروں سے کچھ جُدا تو نہیں ہے یہ حالِ کُل

ایّام فصلِ گُل ہی میں آئے تھے آنے تھے

ہر سال اپنے واسطے، بخشت⚠️ کا سالِ گُل

رودادِ، درد و جبر کی کٹتی ہے عندلیب

اے کاش! وہ حضورؐ کا اُس پر دردِ حالِ گُل

یارب! گذر حضورؐ کا اِس رَاہ گُزار ہو

دیکھنا ہم سے جائے ہے رنگ و مَلالِ گُل

کیا رنگ رنگ رکھ پے لے کے کھلاتا ہے حَسِیں

یہ خاک رہ ہو اُن کی، یہی ہے کمالِ گُل

لکھ کر نبیؐ کی نعت ہم ساجد ہم بارہ مراد

رہتے ہیں ہم نعت ہم کھلے ہوئے شاداں مِثالِ گُل