← ذوقِ جمال
ہر سُو بہاں منظَر ناختن⚠️ سرو و گن⚠️ پھول
طیبۂ کے خزف ریزے⚠️ بھی ہیں ذر کرتے پھول
یہ روشنیاں نُور کا سیلاب رواں ہیں
کس درجہ حَسِیں آقاؐ کے آتا ہے اکیلے⚠️ پھول
ذرّے رہ طیبۂ کے ستارے ہیں جن فلَک کے
شاداب و معطر ہے زمیں زردِ بدن⚠️ پھول
اِس خاک میں پوشیدہ کئی مدفون ہیں
اللہ سے ڈر، اپنے پر چرغ⚠️ بھنے⚠️ پھول
وادی ہو کہ گھائی⚠️ ہو کوئی جبلِ سا صَحرا
آنکھوں میں مِری طیبۂ کے ہیں دشت و وطن⚠️ پھول
دِل کے چمنستاں میں بہاریں ہی بہاریں ہیں
لاریب ہے یہ نعت و ثَنا گوئی کا فن پھول
مدفون ہو ساجدؔ تن خاکی کی بھی، تمنّا
طیبۂ کی زمیں میں ہے مِری جاں کا وطن پھول