ذوقِ جمال
1

ہر سُو بہاں منظَر ناختن⚠️ سرو و گن⚠️ پھول

طیبۂ کے خزف ریزے⚠️ بھی ہیں ذر کرتے پھول

2

یہ روشنیاں نُور کا سیلاب رواں ہیں

کس درجہ حَسِیں آقاؐ کے آتا ہے اکیلے⚠️ پھول

3

ذرّے رہ طیبۂ کے ستارے ہیں جن فلَک کے

شاداب و معطر ہے زمیں زردِ بدن⚠️ پھول

4

اِس خاک میں پوشیدہ کئی مدفون ہیں

اللہ سے ڈر، اپنے پر چرغ⚠️ بھنے⚠️ پھول

5

وادی ہو کہ گھائی⚠️ ہو کوئی جبلِ سا صَحرا

آنکھوں میں مِری طیبۂ کے ہیں دشت و وطن⚠️ پھول

6

دِل کے چمنستاں میں بہاریں ہی بہاریں ہیں

لاریب ہے یہ نعت و ثَنا گوئی کا فن پھول

7

مدفون ہو ساؔجِد تن خاکی کی بھی، تمنّا

طیبۂ کی زمیں میں ہے مِری جاں کا وطن پھول