ذوقِ جمال
1

جلوہ حق سے ہیں دہ موجُود، اِس سے کم نہیں

یاد جس دِل میں ہیں اُن کی، اُس کی کوئی تم نہیں

2

فتح و نصرت دائما پہنچے سرکارؐ کے

ہو گیا جو جھنم کبھی وہ آپؐ کا پرچم نہیں

3

راس آئے دین اُسے جو راتی پر ہے فِدا

راہگزار دیں میں منزِل تک ذرا بھی غم نہیں

4

کوئی بھی محبوبِ حق پر غالب آسکتا نہیں

کوئی ہو اُن کے مقابل یہ کسی میں دم نہیں

5

شاہِ دیں کا بندہ حق سے مشغول آنکھوں پھیر

وہ بھی کیا آبہو جو ہو لُطفِ گرم رم⚠️ نہیں

6

مصطفٰؐے کے شہرِ اَقُدس کا ہے آب، آبِ حیات

ہو نہ تشنے کے خُودی⚠️ طَیَّبہ کا وہ موم نہیں

7

اس میں آتی ہیں نظر ارض و آسماں کی وسعتیں

یہ ہے دِل موسٰی⚠️ کا ساؔجِد، کوئی جام مہ نہیں