← نور و سرور
نیازمند ہُوں دربارِ مصطفائی کا
نہیں ہے خوف ذرا بھی مجھے خدائی کا
کہاں ہے تاب یہ ذرّے میں مہر تک پہنچے
خِیال خام ہے اُن تک مِری رسائی کا
نبیؐ کی بزم میں لازم ہے طہارتِ دِل ہے
ہے التزام یہاں رُوح کی صفائی کا
یہ کُل کی بات نہیں واقعۂ اَزَل کا ہے
طویل قصۂ مِرا اُن سے آشنائی کا
جلالِ تخت کا سر جھک گیا ندامت سے
جمالِ دیکھا نبیؐ کی جب اِس چڑھائی کا
خُدا نے خوب نبیؐ کو جمال و حُسن دیا
خُدا کو خوب ہُوا شوقِ خود نمائی کا
خُدا کا شُکر ہے ساجد نبیؐ کے گُلشن میں
مجھے مَقام ملا زمزمہ سرائی کا