نور و سرور
1

نیازمند ہُوں دربارِ مصطفاؐئی کا

نہیں ہے خوف ذرا بھی مجھے خدائی کا

2

کہاں ہے تاب یہ ذرّے میں مہر تک پہنچے

خِیال خام ہے اُن تک مِری رسائی کا

3

نبیؐ کی بزم میں لازم ہے طہارتِ دِل ہے

ہے التزام یہاں رُوح کی صفائی کا

4

یہ کَل کی بات نہیں واقعۂ اَزَل کا ہے

طویل قصۂ مِرا اُن سے آشنائی کا

5

جلالِ تخت کا سَر جُھک گیا نَدامَت سے

جمال دیکھا نبیؐ کی جب اِس چٹائی کا

6

خُدا نے خوب نبیؐ کو جمال و حُسن دیا

خُدا کو خوب ہُوا شوق خُود نُمائی کا

7

خُدا کا شُکر ہے ساؔجِد نبیؐ کے گُلشن میں

مجھے مَقام ملا زمزمہ سرائی کا