جانِ جہاں

کوچۂ پاک میں اُن کے مِرا بستر ہوتا

ہر گھڑی پیشِ نظر روضۂ اَنُور ہوتا

تذکرہ سیّدِ لولاک ﷺ کا لب پر ہوتا

جان بے چین نہ دِل پہلو میں مُضطَر ہوتا

کرسیِ و لوح و قلم ہوتے نہ دوزخ جنّت

آخری گریۂ خُدا کا نہ پَیمبر ہوتا

آپ ﷺ کا جلوہ نہ گر ہوتا نہ ہوتی دُنیا

کوئی کیخسرو و خاقان نہ قیصر ہوتا

خُلد کی آب و ہوا میرا مقدّر ہوتی

آپ ﷺ کے شہر میں گھر کاش میسّر ہوتا

آپ ﷺ اللہ کے محبوب ﷺ ہیں نبیوں کے اِمام

کیوں نہ چرچا مِرے سُلطان کا گھر گھر ہوتا

حق کے محبوب ہیں بے مِثل پَیمبر ﷺ ساجدؔ

کب یہ ممکِن ہے کوئی اُن کے برابر ہوتا