شوقِ فراواں
1

منّتی⚠️ ہے آپ سے یہ دیدۂ تر دیکھنا

اِس طرف بھی اے حبیبِ ربِّ اکبر! دیکھنا

2

انہوں پر بن کے ابرِ لُطف وہ چھا جائیں گے

شانِ آقا کے کرم کی روزِ مَحشَر دیکھنا

3

ہاتھ پھیلائے کھڑا ہے اُن کے در پر کیتباد⚠️

اُن کے کوچے میں گداگری⚠️ ذِ⚠️ قیصر دیکھنا

4

اُس سے جو بھی بنھو⚠️ گیا وہ سنگ گوہر ہو گیا

بے گُماں پارس ہے اُن کے در کا پتھر دیکھنا

5

راہ جاتی ہے یہ سیدھی نُور کے ایوان کو

رات دِن اُن کو تَصوُّر میں برابر دیکھنا

6

کیا ہی جاں اَفِزا مواجب⚠️ کا ہے منظَرِ دِلِ مٹھا⚠️

وہ ریاضِ انبیا⚠️ اور محراب و منبر دیکھنا

7

رات دِن مشتقِ⚠️ تَصوُّرِ مشغل⚠️ ہو ساؔجِد مِرا

حق کے پیغمبر کا وہ مِثلِ⚠️ پَیکر دیکھنا