ذوقِ جمال

گرہے اپنے جنت میں دِیدار باری، واہ واہ

دِل پہ کیا ہی خُوب ہو گا وجد طاری، واہ واہ

مصطفیؐ کا نام ہے جو ہونٹوں پہ جاری، واہ واہ

ہے رواں سُونے طلک اُن کی سواری، واہ واہ

آج کی شب بزمِ آبِ وادِ خُلد میں

قُدسیوں نے محفِل انجم سنواری، واہ واہ

یہ جہاں سارا ہے یہ جلوت گاہِ شانِ کردگار

حسنِ اِیزَد کی ہے سب آئینہ داری، واہ واہ

ہے جمالِ نُورِ صِفاتِ ذات و ثناء

درمیانِ احمد و حق رازداری، واہ واہ

کیا شبِ مِعراج تھی، ہر سُو ہجوم نُور تھا

روشنی و بے خُودی ہر شے پیاری، واہ واہ

تختہ⚠️ لائے مصطفیؐ ساجدؔ ہمارے واسطے

کس قدرتی اوج پر قِسِمت ہماری، واہ واہ