ذوقِ جمال
1

گرہے اپنے جنت میں دِیدار باری، واہ واہ

دِل پہ کیا ہی خُوب ہو گا وجد طاری، واہ واہ

2

مصطفٰؐے کا نام ہے جو ہونٹوں پہ جاری، واہ واہ

ہے رواں سُونے طلک اُن کی سواری، واہ واہ

3

آج کی شب بزمِ آبِ وادِ خُلد میں

قُدسیوں نے محفِل انجم سنواری، واہ واہ

4

یہ جہاں سارا ہے یہ جلوت گاہِ شانِ کردگار

حسنِ اِیزَد کی ہے سب آئینہ داری، واہ واہ

5

ہے جمالِ نُورِ صِفاتِ ذات و ثناء

درمیانِ احمد و حق رازداری، واہ واہ

6

کیا شبِ مِعراج تھی، ہر سُو ہجوم نُور تھا

روشنی و بے خُودی ہر شے پیاری، واہ واہ

7

تختہ⚠️ لائے مصطفٰؐے ساؔجِد ہمارے واسطے

کس قدرتی اوج پر قِسِمت ہماری، واہ واہ