نور و سرور
1

ارض و سما ہیں نغمہ سرا آپؐ کے لیے

ہیں ممکنات محوِ ثَنا آپؐ کے لیے

2

ہے آپؐ کی خُوشی کو یہ بزمِ مہ و نجوم

پہنی گلوں نے خاص قبا ‘ آپؐ کے لیے

3

ہے کاروانِ شوق رواں ‘ رات ہو کہ دِن

ہے بزمِ ذِکر صبح و مسا ‘ آپؐ کے لیے

4

مُضطَر ہے موجِ آب، تمناّئے دید میں

بے چین ہے چَمن کی ہَوا آپؐ کے لیے

5

ہو ایک ہی نمود کی تکرار ‘ یہ نہیں

ہر آن ہے جہان نیا آپؐ کے لیے

6

تنہائیاں ہیں دشت کی یادِ نبیؐ میں گم

گُلشن میں ہے قمریوں کی نَوا آپؐ کے لیے

7

خورشید و ماہ ‘ انفس و آفاق ‘ خشک و تر

ساؔجِد ہیں سب خَلا ؤ مَلا آپؐ کے لیے