نور و سرور

ارض و سما ہیں نغمہ سرا آپؐ کے لیے

ہیں ممکنات محوِ ثَنا آپؐ کے لیے

ہے آپؐ کی خُوشی کو یہ بزمِ مہ و نجوم

پہنی گلوں نے خاص قبا، آپؐ کے لیے

ہے کارواں شوق رواں رات کہ دِن

ہے بزمِ ذِکر صبح و مسا، آپؐ کے لیے

مُضطَر ہے موج آب، تمنائے دید میں

بے چین ہے چَمن کی ہَوا آپؐ کے لیے

ہو ایک ہی نمود کی تکرار، یہ نہیں

ہر آن ہے جہاں نیا آپؐ کے لیے

تنہائیاں ہیں دشت کی یادِ نبیؐ میں گم

گُلشن میں ہے قمریوں کی نَوا آپؐ کے لیے

خورشید و ماہ، انفس و آفاق، خشک و تر

ساجد ہیں سب خلا وَ ملا آپؐ کے لیے