نور و سرور
1

یُونہی کب یہ سُرور رہتا ہے

دِل میں کوئی ضرور رہتا ہے

2

دور رہ کر قریب ہے کوئی

کوئی قُربت میں دور رہتا ہے

3

یہ ہے فیضانِ چشمِ رحمت کا

خلوتوں میں ظُہور رہتا ہے

4

میرے دِل میں ثنا کا شوق ابھی

میرے ربِّ غفور ! رہتا ہے

5

اُن کی پہچان ہو فزوں جتنی

دِل میں اتنا سُرور رہتا ہے

6

وہ نِگاہوں میں ہیں سمائے ہوئے

رُوبرو عکسِ طُور رہتا ہے

7

جِس کے لب پر درود ہے ساؔجِد

شامِلِ بزمِ نُور رہتا ہے