نور و سرور
1

نبیؐ کے نام سے سرمایۂ قرار ملا

پَیامِ لُطف ملا ‘ مُثردۂ بہار ملا

2

تھی ایک گُل کی تمنا ‘ عطا ہُوا گُلشن

حد و حِساب سے مانگا تھا ‘ بے شُمار ملا

3

نبیؐ کے نُور سے روشن ہُوا حریمِ جمال

دِل و نظر کو اُسی نُور سے خُمار ملا

4

نبیؐ کے شہر کے شام و سحر ہیں جاں پرور

کبھیں بھی اور نہ موسم وہ خوشگوار ملا

5

ہر ایک راستہ منزِل ہے کامرانی کی

نبیؐ کے شہر کا ہر جادہ جلوہ زار ملا

6

بہ لُطفِ حق ہے میسّر ہوائے خُلد ہمیں

ہمیں قیام کو یہ شہرِ شہریار ملا

7

سُنی ہے نعتِ نبیؐ آج ہم نے ساؔجِد سے

ہمارے قلبِ حَزیں کو بہت قرار ملا