ذوقِ جمال
1

ہم اُن کی بزم سے حق کا سُراغ لے کے چلے

نبیؐ کے فیض کا روشن چِراغ لے کے چلے

2

ہمارے ساتھ تھی دنیاں جب آتے تھے

در رسُولؐ سے خوشیوں کے باغ لے کے چلے

3

نبیؐ کی یاد رہے گی جلیس مرقد میں

اسی نِشاط کا ہم ساتھ داغ لے کے چلے

4

سدا ہے ذوقِ نظر تازہ ، جمال نبیؐ

ہم اپنے دِل پہ یہ حَسرت کا داغ لے کے چلے

5

خُداؐ کے نُور سے صورت پذیر ذاتِ رسُولؐ

ہم اس کلام کو دِل تک بلاغ لے کے چلے

6

بہجان و دِل ہوئے قُربان جو شہیدؔ⚠️ دیں پر

کمال فکر رسا وہ داغ لے کے چلے

7

بخشیں نعت رہے شاد کام ہم ساؔجِد

تمام رنج و الَم سے فراغ لے کے چلے