← ذوقِ جمال
ہم اُن کی بزم سے حق کا سُراغ لے کے چلے
نبیؐ کے فیض کا روشن چِراغ لے کے چلے
ہمارے ساتھ تھی دنیاں جب آتے تھے
در رسُولؐ سے خوشیوں کے باغ لے کے چلے
نبیؐ کی یاد رہے گی جلیس مرقد میں
اسی نِشاط کا ہم ساتھ داغ لے کے چلے
سدا ہے ذوقِ نظر تازہ ، جمال نبیؐ
ہم اپنے دِل پہ یہ حَسرت کا داغ لے کے چلے
خُداؐ کے نُور سے صورت پذیر ذاتِ رسُولؐ
ہم اس کلام کو دِل تک بلاغ لے کے چلے
بہجان و دِل ہوئے قُربان جو شہیدؔ⚠️ دیں پر
کمال فکر رسا وہ داغ لے کے چلے
بخشیں نعت رہے شاد کام ہم ساجدؔ
تمام رنج و الَم سے فراغ لے کے چلے