نور و سرور

جب سے رسُولِؐ حق کی نظر مِہربان ہے

مجھ پر جہاں، شمس و قمر مِہربان ہے

ذِکرِ حضورؐ شام و سحر وِرد ہے مِرا

چشمِ حضورؐ شام و سحر مِہربان ہے

اُن کے کرم سے مُشکلیں آساں ہو گئیں

کس درجہ مجھ پر راہگزر مِہربان ہے

ہیں تاجوربھی رشکِ کُناں اُس کے بخت پر

جس پر وہ شاہِ جن و بشر مِہربان ہے

جب سے درودِ پاک ہے وِردِ زُباں مِرے

میری دُعا پہ حُسنِ اثر مِہربان ہے

جب سے خبر ملی ہے مجھے یُمِّ نُور کی

مجھ پر ہر ایک اہلِ خبر مِہربان ہے

ساجد نہیں ہے غم کوئی روزِ حِساب کا

اللہ کا حبیبؐ اگر مِہربان ہے