← نور و سرور
1
جب سے رسُولِؐ حق کی نظر مِہربان ہے
مجھ پر جہانِ شمس و قمر مِہربان ہے
2
ذِکرِ حضورؐ شام و سحر وِرد ہے مِرا
چشمِ حضورؐ شام و سحر مِہربان ہے
3
اُن کے کرم سے مُشکلیں آسان ہو گئیں
کس درجہ مجھ پر راہگزر مِہربان ہے
4
ہیں تاجوربھی رشکِ کُناں اُس کے بخت پر
جس پر وہ شاہِ جن و بشر مِہربان ہے
5
جب سے درودِ پاک ہے وِردِ زُباں مِرے
میری دُعا پہ حُسنِ اثر مِہربان ہے
6
جب سے خبر ملی ہے مجھے بزمِ نُور کی
مجھ پر ہر ایک اہلِ خبر مِہربان ہے
7
ساؔجِد نہیں ہے غم کوئی روزِ حِساب کا
اللہ کا حبیبؐ اگر مِہربان ہے