← نور و سرور
1
جُز محبت کے یہ جی اپنا بہلتا ہی نہیں
گر نہ ہو زادِ سفر قافلہ چلتا ہی نہیں
2
پھر اُترتا نہیں چڑھ جائے اگر رنگِ اُن کا
رہروِ شوق ‘ روش اپنی بدلتا ہی نہیں
3
ہر گھڑی زمزمہ خواہ اُن کے اَنوار کی رُت
اُن کے اَلطاف کا سُورج کبھی ڈھلتا ہی نہیں
4
قید ہوتے ہی ملا عطا ہوتا ہے شاہی کا لباس
اُن کا قیدی کبھی زنداں سے نکلتا ہی نہیں
5
اُن کی رحمت ہو اگر ساتھ تو کچھ خوف نہیں
ایسے حالات میں پھر پاؤں پھسلتا ہی نہیں
6
جو گِرے اُس کو وہ دیتے ہیں سنبھالا لیکن
اُن کی نظروں سے جو گِر جائے ‘ سنبھلتا ہی نہیں
7
تپشِ شوق ہے ساؔجِد مِرے نغمات کی جاں
گرمِیٔ جاں کے سِوا نغمہ اُبلتا ہی نہیں