← نور و سرور
جمالِ حَسِیں و حُسن یاد آیا
مجھے جلوۂ ذوالمنن یاد آیا
چھڑوا جب بھی محفِل میں ذِکرِ بہاراں
مدینے کا حسنِ چَمن یاد آیا
محبت کی مجھ کو کشش یاد آئی
خُدایا! اویسؐ قَرَن یاد آیا
حبیبِؐ خُدا کی وہ چشمِ عِنایَت
وہ فیضِ زمن، در زمن یاد آیا
زمانے کی اُفتاد نے جب بھی گھیرا
وہ دستِ نَوازِش معاً یاد آیا
وہ پھیلا ہُوا دُور تک مُشک و عنبر
نبیؐ کا معطّر بدن یاد آیا
وہ شفقت مِرے حال پر اُن کی ساجد
عِلاجِ غمِ دِل شکن یاد آیا