ذوقِ جمال

روز و شب رہتے ہیں نفحۂ نام ہم

آپؐ کے ہیں طالبِ دِیدار ہم

اِک توجّہ آپؐ کی بلکی⚠️ سی تھی

ہوگئے سیلاب غم سے پار ہم

دیکھتے ہی اُن کو در آتی ہے جاں

جی اُٹھے ہیں مر کے کتنی بار ہم

اِک نَوازِش سے ہیں فُرُوزَاں ہیں نصیب

ہو گئے نادر تذر⚠️ شہوار ہم

ہے خِیالِ مصطفیٰؐ، تَسکینِ جاں

آپؐ کی یادوں سے ہیں سَرشار ہم

ہر گھڑی ہم بے خود و سرمست ہیں

سامنے اُن کے بہت جفاشیار⚠️ ہم

ساجدؔ اُن کے در سے کیا پایا نہیں

اُن سے لائے قِسِمت بیدار ہم