← شوقِ فراواں
خاکِ حِجاز میں ہیں اَنوار کیسے کیسے
زیرِ زمیں کھلے ہیں گُلزار کیسے کیسے
محتاج اُن کے در سے بھرتے ہیں اپنے داماں
لے جائیں وہ گھر میں کے انبار کیسے کیسے
سائلِ نبیؐ کے در کے سرخوش ہیں بخشتوں سے
ہیں آپؐ کی نظر سے سَرشار کیسے کیسے
جب بھی انہیں پکارا طوفان ڈل⚠️ گئے ہیں
کرتے ہیں ہم پہ احساسِ سرکار کیسے کیسے
ایوانِ مصطفیٰؐ ہے خوں حاوی سب پر
آباد اُن کے دم سے دربار کیسے کیسے
موئے نبیؐ کی صدقے ہر معرکے میں غالب
تھے جاں شثار⚠️ مولا کے سالار کیسے کیسے
ساجدؔ نبیؐ نے کھولا در آگہی کا ہم پر
ہم پر کے ہیں روشنِ آسرار کیسے کیسے