شوقِ فراواں
1

خاکِ حِجاز میں ہیں اَنوار کیسے کیسے

زیرِ زمیں کھلے ہیں گُلزار کیسے کیسے

2

محتاج اُن کے در سے بھرتے ہیں اپنے داماں

لے جائیں وہ گھر میں کے انبار کیسے کیسے

3

سائلِ نبیؐ کے در کے سرخوش ہیں بخشتوں سے

ہیں آپؐ کی نظر سے سَرشار کیسے کیسے

4

جب بھی انہیں پکارا طوفان ڈل⚠️ گئے ہیں

کرتے ہیں ہم پہ احساسِ سرکار کیسے کیسے

5

ایوانِ مصطفٰےؐ ہے خوں حاوی سب پر

آباد اُن کے دم سے دربار کیسے کیسے

6

موئے نبیؐ کی صدقے ہر معرکے میں غالب

تھے جاں شثار⚠️ مولا کے سالار کیسے کیسے

7

ساؔجِد نبیؐ نے کھولا در آگہی کا ہم پر

ہم پر کے ہیں روشنِ آسرار کیسے کیسے