شوقِ فراواں
1

مدینے جائیں دِل و جاں کو قرار آئے

ہماری روح کی صَحرا میں بھی بہار آئے

2

نبیؐ کے باغ کے جھونکے جہاں جہاں پہنچے

الَم کے ماروں کی تقدیر وہ سنوار آئے

3

بھنسور⚠️ سے ہم کو نکلالا⚠️ خُدا کی رحمت نے

تھے ہاتھِ غیب ہمیں جن کو جو پار اُتار آئے

4

سبھی وہ دامَنِ دِل بھر کے یاسِ⚠️ رسُولؐ کے

در و رسُولؐ پہ جو بھی امیدوار آئے

5

درود پڑھتے ہوئے طے کیا تمام سفر

ہزار راہ میں دشت آئے خار زار آئے

6

بہار گُنبد خضریٰ کا ہے جمال کہاں

ہے کہ دیکھتے ہی جاں کو قرار آئے

7

آنکھیں حِجاب میری چشمِ جاں سے بھی ساؔجِد

مِرے نصیب میں طَیَّبہ کا گر غُبار آئے