شوقِ فراواں

آپؐ کے شہر میں مل جائے زمیں تھوڑی سی

مہربانی ہو ادھر آئے شہرِؐ! تھوڑی سی

مجھ کو مل جائے بہ چگہ⚠️ در کے قَریں تھوڑی سی

میں کروں عِشقِ ابدی یہ بن جبیں تھوڑی سی

ایک ہی تجربہ آپؐ آپ کا کافی ہے مجھے

مجھ کو ہو جائے عطا ناں جوں ناں⚠️ تھوڑی سی

تیرا کیا حال تھا جب درِ سے خُدا کے بُہوا

مجھ کو روداد⚠️ سنا قلبِ حَزیں! تھوڑی سی

چشمِ جاں میری کھلے دِل کو ہو عِرفان نصیب

کاش مل جائے یقیں اِکسیر⚠️ یقین تھوڑی سی

حق آئے کرتا نہیں ہے کبھی تبدیل

بندہِ حق نے اگر کہہ دی نہیں! تھوڑی سی

بات اتنی ہے کہ حق ملتا نہیں اُن کے سِوا

ساجدؔ اُن سے یہ کہیں بات یہیں⚠️ تھوڑی سی