← شوقِ فراواں
1
آپؐ کے شہر میں مل جائے زمیں تھوڑی سی
مہربانی ہو ادھر آئے شہرِؐ! تھوڑی سی
2
مجھ کو مل جائے بہ چگہ⚠️ در کے قَریں تھوڑی سی
میں کروں عِشقِ ابدی یہ بن جبیں تھوڑی سی
3
ایک ہی تجربہ آپؐ آپ کا کافی ہے مجھے
مجھ کو ہو جائے عطا ناں جوں ناں⚠️ تھوڑی سی
4
تیرا کیا حال تھا جب درِ سے خُدا کے بُہوا
مجھ کو روداد⚠️ سنا قلبِ حَزیں! تھوڑی سی
5
چشمِ جاں میری کھلے دِل کو ہو عِرفان نصیب
کاش مل جائے یقیں اِکسیر⚠️ یقین تھوڑی سی
6
حق آئے کرتا نہیں ہے کبھی تبدیل
بندہِ حق نے اگر کہہ دی نہیں! تھوڑی سی
7
بات اتنی ہے کہ حق ملتا نہیں اُن کے سِوا
ساؔجِد اُن سے یہ کہیں بات یہیں⚠️ تھوڑی سی