← حرفِ نیاز
1
محمدؐ مصطفٰےؐ صلِّ علیٰ نُورِ خُدا آئے
بہر سُو جَلوے برساتے ہوئے شمس الضحیٰ آئے
2
حریمِ کِبریا ہے جن کی منزِل مرحبا آئے
اُسی جانِب ہماری رہبری کو مصطفٰےؐ آئے
3
دِلوں کو نشّۂ توحید سے سَرشار کرنے کو
سُنانے مژدۂ جنّت اِمامِ؟ انبیا؟ آئے
4
دِلِ بے تاب کو آخر سُکوں آیا قرار آیا
مقدّرِ دِل کا جاگ اُٹھا کہ دِل کے آشنا آئے
5
لُٹائے ہیں رُخِ زیبانے جَلوے نُورِ مُطلِق کے
چھٹے ہیں ظُلمت کے بادل پیکرِ نُور و ضیا آئے
6
ہمیں بھی آرزو اُن کی بہت ہے چین رکھتی ہے
ہمارے نام بھی پیغام اے بادِ صبا آئے
7
نہیں ہو گی شِکایت اب کسی کو تنقید کاکی
بجائے تفتیشی جان و دِل بحرِ عطا آئے
8
اِدھر بھی اِک نظر ساؔجِد بھی شامِل ہے گداؤں میں
ہماری سِمت بھی چشمِ کرم نامِ خُدا آئے