← حرفِ نیاز
میری جاں میری آرزو تم ہو
جلوہ افروز چار سُو تم ہو
جلوۂ گُل تمہارا عکسِ جمال
حق کے محبوب خوبرو تم ہو
میں مکرّم تمہیں سے لوح و قلم
عرش و کرسی کی آبرو تم ہو
تم اَزَل ہو تمہیں ابد بے شک
مظہرِ نُورِ ذاتِ ھُو تم ہو
ہے نظر جس کی دید کی طالب
دِل کو ہے جس کی جُستجو تم ہو
تم کو حاصل ہے قُربِ اد اَدنیٰ
ہر گھڑی حق کے روبرو تم ہو
بزم در بزم جس کا چرچا ہے
ذِکر جس کا ہے کُو بکُو تم ہو
تم ہی عنوانِ شعرِ ساجدؔ ہو
اِس کا موضوعِ گفتگو تم ہو