حرفِ نیاز
1

محبت کے دریا میں طوفان آیا

خزانے لٹانے کے سُلطان آیا

2

کئے منکشف جس نے اسرار دِل کے

ہوئیں مُشکلیں جس سے آسان آیا

3

فضا گونج اٹھی ہے صلِّ علیٰ سے

بہار آفریں زمزمہ خوان آیا

4

دِل و جان کو اب نہیں کوئی کھٹکا!

دِل و جان کا اب نِگہبان آیا

5

جو تخلیقِ عالَم کی ہے غرض و غایت

خُدا کا وہ محبوبِ؟ انسان آیا

6

ہوا ختم جس پر رِسالت کا منصب

وہ جانِ جہاں جانِ ایمان آیا

7

تبسّم کے جلووں کی برسات آئی

نِشاط و مسرّت کا سامان آیا

8

ہوئی ضوفشاں بزمِ تاریکِ عالَم

رسُولِ؟ خُدا لے کے قُرآن آیا

9

مِرا دِل مچلتا ہے رہ رہ کے ساؔجِد

مِری آرزو میرا ارمان آیا