← حرفِ نیاز
محبت کے دریا میں طوفان آیا
خزانے لٹانے کے سُلطان آیا
کئے منکشف جس نے آسرارِ دِل کے
ہوئیں مُشکلیں جس سے آسان آیا
فضا گونج اٹھی ہے صلِّ علیٰ سے
بہارِ آفریں زمزمہ خوان آیا
دِل و جان کو اب نہیں کوئی کھٹکا!
دِل و جان کا اب نِگہبان آیا
جو تخلیقِ عالَم کی ہے غرض و غایت
خُدا کا وہ محبوبِ انسان آیا
ہوا ختم جس پر رِسالت کا منصب
وہ جانِ جہاں جانِ ایمان آیا
تبسّم کے جلووں کی برسات آئی
نِشاط و مسرّت کا سامان آیا
ہوئی ضوفشاں بزمِ تاریکِ عالَم
رسُولِ خُدا لے کے قُرآن آیا
مِرا دِل مچلتا ہے رہ رہ کے ساجدؔ
مِری آرزو میرا ارمان آیا