نور و سرور

مدینے کی ہوائیں نغمہ گر ہیں

مناظرِ خُلد کے پیشِ نظر ہیں

ہر اِک رُخ سے عَیاں نُورِ خُدا ہے

یہ گُلیاں ہیں کہ جلووں کے گُزر ہیں

تجلّی زار ہیں محراب و منبر

برنگِ طُورِ موسیٰؑ بام و در ہیں

وہاں دِن کے اُجالوں کی ہے کیا بات

جہاں شب کو بھی اَنوارِ سحر ہیں

جسے چاہیں غنی ہو اِک نظر میں

مِرے سرکارِ شاہِ بحر و بر ہیں

نظر میں گُنبدِ خضریٰ بسا ہے

دعائیں آج میری با اثر ہیں

گزرتا ہے مزے میں وقت ساجد

مدینے کے عجب شام و سحر ہیں