نور و سرور
1

مدینے کی ہوائیں نغمہ گر ہیں

مناظر خُلد کے پیشِ نظر ہیں

2

ہر اِک رُخ سے عَیاں نُورِ خُدا ہے

یہ گلیاں ہیں کہ جلووں کے نگر ہیں

3

تجلّی زار ہیں محراب و منبر

برنگِ طُورِ موسیٰؑ بام و در ہیں

4

وہاں دِن کے اُجالوں کی ہے کیا بات

جہاں شب کو بھی اَنوارِ سحر ہیں

5

جسے چاہیں غنی ہو اِک نظر میں

مِرے سرکار شاہِؐ بحر و بر ہیں

6

نظر میں گُنبدِ خضریٰ بسا ہے

دعائیں آج میری با اثر ہیں

7

گزرتا ہے مزے میں وقت ساؔجِد

مدینے کے عجب شام و سحر ہیں