← شوقِ فراواں
1
دِل کے لئے آساں نہ تھی یہ آسان نکل آیا
حل مشتاق تَصَوُّر سے مِری جاں نکل آیا
2
یہ میم خوشا دفتر ایمان نکل آیا
سمجھا تھا ایک حرف میں اِک دبستان نکل آیا
3
صد شُکر عِیاں تکتہ عِرفان نکل آیا
سودا تھا بہت مہنگا پہ ارزاں نکل آیا
4
دِل سے مِیرے دِیدارِ کا ارمان نکل آیا
زنداں سے مِرا یوسف کنعاں نکل آیا
5
دی دِل نے گواہی وہ محمدؐؐؐؐ ہیں شبِ دیں
کھلتا ہوا گُل وہ کو لب خاندان نکل آیا
6
بے ساختہ برگا جو نِقاب آپؐ کے رُخ سے
وہ زوئے حَسِیں میر سمیر⚠️ درختاں نکل آیا
7
ساؔجِد کہ بہت شِیفتہ تھا صنفِ غزل کا
یہ لطیف پَیمبرؐ سے شناخواں نکل آیا