شوقِ فراواں
1

کھلے ہیں دِل یہ مدینے کی ہے ہوا کا اثر

شہِ جمال کی خوشبوئے جاں فِزا کا اثر

2

نبی کے سائے دیوار میں سُکون اللہ

ستیں⚠️ سے ابھرا⚠️ ہوا سایہ ہما⚠️ کا اثر

3

ہے گرچہ سادہ غلام اُن کا پُر جلال مگر

یہ رعب سارا ہے اللہ میں فنا کا اثر

4

مُحیط سارے جہاں پر ہے سایۂ رحمت

تمام برکتیں ہیں لُطفِ والمجی⚠️ کا اثر

5

ستم رسیدہ⚠️ کا بھکولا⚠️ نہیں زمانے کو

ہے دِل میں اب بھی غمِ شاہِ کربلا کا اثر

6

نبی کے پاک وسیلے سے ہاتھ پھیلائیں

جہاں دیکھے گا کیا چیز ہے دُعا کا اثر

7

نَجات مل گئی ساؔجِد غمِ جہاں سے ہمیں

یہ سب کشائشیں⚠️ ہیں نعتِ مُصطفٰؐے کا اثر