← شوقِ فراواں
اے خُدا! مجھ کو بھی وہ گرد و غُبار آئے نظر
جس میں خورشیدِ صفت ناقہ سوار آئے نظر
آپ کے چہرۂ گُل رنگ کا جب آئے خِیال
ہم کو بھی صورتِ تَسکین و قرار آئے نظر
زِندگی اپنی شب و روز بسر اِس جا ہو
سبز گُنبد کا جہاں حسنِ بہار آئے نظر
دیدِ بلبل کے بغیر اپنا نہیں دِل لگتا
نظر افروز چَمن گرچہ ہزار آئے نظر
مرحم آج بھی ہیں لوحِ دِل و جاں پہ مِری
حرمِ پاک میں جو نقش و نگار آئے نظر
آپ کے نام درودوں کے جو تھے پیسے⚠️
اپنے گردِ اُس کو فرشتوں کا حِصار آئے نظر
آنکھ کھل جائے مِرے دِل کی یقیں ہے ساجدؔ
گر مجھے چہرۂ آں والا جار⚠️ آئے نظر