← شوقِ فراواں
1
اے خُدا! مجھ کو بھی وہ گرد و غُبار آئے نظر
جس میں خورشیدِ صفت ناقہ سوار آئے نظر
2
آپ کے چہرۂ گُل رنگ کا جب آئے خِیال
ہم کو بھی صورتِ تَسکین و قرار آئے نظر
3
زِندگی اپنی شب و روز بسر اِس جا ہو
سبز گُنبد کا جہاں حسنِ بہار آئے نظر
4
دیدِ بلبل کے بغیر اپنا نہیں دِل لگتا
نظر افروز چَمن گرچہ ہزار آئے نظر
5
مرحم آج بھی ہیں لوحِ دِل و جاں پہ مِری
حرمِ پاک میں جو نقش و نگار آئے نظر
6
آپ کے نام درودوں کے جو تھے پیسے⚠️
اپنے گردِ اُس کو فرشتوں کا حِصار آئے نظر
7
آنکھ کھل جائے مِرے دِل کی یقیں ہے ساؔجِد
گر مجھے چہرۂ آں والا جار⚠️ آئے نظر