← شوقِ فراواں
1
بعد از ہیّ دیں نام نبیؐ کا نہیں آتا
اب اور پَیمبر کوئی سچّا نہیں آتا
2
ہوتی ہیں فرشتوں کی صفیں اُس کے جلو میں
اللہ خِیال آپؐ کا تنہا نہیں آتا
3
مہکی ہوئی عنبر سے نہ ہوں طَیَّبہ کی فضائیں
طَیَّبہ میں کوئی ایسا سویرا نہیں آتا
4
ہوتے ہیں سبھی مُرتجع⚠️ طلے اُنؐ کے کرم سے
کِسی درود کا آقا کو مُداوا⚠️ نہیں آتا
5
اُس فرد کا جینا کوئی جینا نہیں ہوتا
اللہ کی خاطِر تو مرنا نہیں آتا
6
جو راہ مدینے کی طرف جاتی ہے سیدھی
بد بخت کو اُس راہ پر چلنا نہیں آتا
7
ملتا نہیں ہے حکمِ خُداوند کا ساؔجِد
کب سامنے تقدیر کا لکھنا نہیں آتا