شوقِ فراواں

بعد از ہیّ دیں نام نبیؐ کا نہیں آتا

اب اور پَیمبر کوئی سچّا نہیں آتا

ہوتی ہیں فرشتوں کی صفیں اُس کے جلو میں

اللہ خِیال آپؐ کا تنہا نہیں آتا

مہکی ہوئی عنبر سے نہ ہوں طَیَّبہ کی فضائیں

طَیَّبہ میں کوئی ایسا سویرا نہیں آتا

ہوتے ہیں سبھی مُرتجع⚠️ طلے اُنؐ کے کرم سے

کِسی درود کا آقا کو مُداوا⚠️ نہیں آتا

اُس فرد کا جینا کوئی جینا نہیں ہوتا

اللہ کی خاطِر تو مرنا نہیں آتا

جو راہ مدینے کی طرف جاتی ہے سیدھی

بد بخت کو اُس راہ پر چلنا نہیں آتا

ملتا نہیں ہے حکمِ خُداوند کا ساجدؔ

کب سامنے تقدیر کا لکھنا نہیں آتا