شوقِ فراواں
1

سیّدِ کون و مَکاں قبلہ ایمان میرا

صاحبِ لُطف و کرم خواجہ ذی شان میرا

2

گُل تمنّا کے مِرے دِل میں کھلتے رہتے ہیں

بادِ رحمت سے ہے شادابِ گلستان میرا

3

دِل میں اب تسلّی حَسرت کا کوئی نام نہیں

بھر دیا آپؐ نے ارمان کا دامان میرا

4

نام اللہ کا اب لے کے زیارت کو چلیں

ہے یہی شوقِ فَراواں ہی تو سامان میرا

5

اِک نظر ہی سے بدل جائے گی دُنیا میری

آپؐ جب دیکھیں گے یہ حال پریشان میرا

6

کب قدم رنجہ وہ فرمائیں میری جانِب

مُختَصَر مِرے ہے خانہ ویران میرا

7

میرے احباب بھی خوں روئیں گے ساؔجِد شب بھر

ہو گا فریاد یہ لب جب دِل سوزاں میرا