← شوقِ فراواں
سیّدِ کون و مَکاں قبلہ ایمان میرا
صاحبِ لُطف و کرم خواجہ ذی شان میرا
گُل تمنّا کے مِرے دِل میں کھلتے رہتے ہیں
بادِ رحمت سے ہے شادابِ گلستان میرا
دِل میں اب تسلّی حَسرت کا کوئی نام نہیں
بھر دیا آپؐ نے ارمان کا دامان میرا
نام اللہ کا اب لے کے زیارت کو چلیں
ہے یہی شوقِ فَراواں ہی تو سامان میرا
اِک نظر ہی سے بدل جائے گی دُنیا میری
آپؐ جب دیکھیں گے یہ حال پریشان میرا
کب قدم رنجہ وہ فرمائیں میری جانِب
مُختَصَر مِرے ہے خانہ ویران میرا
میرے احباب بھی خوں روئیں گے ساجدؔ شب بھر
ہو گا فریاد یہ لب جب دِل سوزاں میرا