نور و سرور
1

مسرور دِل ہے ‘ شاد ہے جاں اُن کے شہر میں

آباد نُور کا ہے جہاں اُن کے شہر میں

2

ذرے یہاں کے صورتِ انجم ہیں ضَوفِشاں

ہر رہگزر ہے کاہکشاں اُن کے شہر میں

3

ہر صبح جاں فروز ہے ‘ ہر شام دِل نَواز

ہر لحظ ہے خُوشی کا سماں اُن کے شہر میں

4

فیضانِ لُطف سے دِل وجاں پُر خُمار ہیں

دریا ہے بے خُودی کا رواں اُن کے شہر میں

5

ہے شوق یامراد ‘ تمنا ہے کامران

نصرت کے اَن گِنت ہیں نِشاں اُن کے شہر میں

6

اُٹھتے ہیں چشمِ دِل سے حِجابات وہم کے

ہوتا ہے پاش پاش گُماں اُن کے شہر میں

7

ساؔجِد فضا میں مِشک و سمن ہیں بسے ہوئے

دِل میں خُوشی ہے زمزمہ خواں اُن کے شہر میں