← نور و سرور
مسرور دِل ہے، شاد ہے جاں اُن کے شہر میں
آباد نُور کا ہے جہاں اُن کے شہر میں
ذرے یہاں کے صورتِ انجم ہیں ضوفشاں
ہر رہگزر ہے کابکشاں اُن کے شہر میں
ہر صبح جاں فروز ہے، ہر شام دِل نَواز
ہر لحظ ہے خُوشی کا سماں اُن کے شہر میں
فیضانِ لُطف سے دِل وجاں پُر خُمار ہیں
دریا ہے بے خُودی کا رواں اُن کے شہر میں
ہے شوق یامراد، تمنا ہے کامراں
نصرت کے اُن گنت ہیں نِشاں اُن کے شہر میں
اُٹھتے ہیں چشمِ دِل سے حجابات وہم کے
ہوتا ہے پاش پاش گُماں اُن کے شہر میں
ساجد فضا میں مِشک و سمن ہیں بسے ہوئے
دِل میں خُوشی ہے زمزمہ خواں اُن کے شہر میں