← حرفِ نیاز
1
جُز تِرے نام کے جی اپنا بہلتا ہی نہیں
کارواں شوق کا رُکتا ہے تو چلتا ہی نہیں
2
پھر اُترتا نہیں چڑھ جائے اگر رنگِ نبیؐ
رہروِ عِشق روِش اپنی بدلتا ہی نہیں
3
ہر گھڑی زمزمہ خواں ہے ترے انوار کی رُت
تیرے اَلطاف کا سُورج کبھی ڈھلتا ہی نہیں
4
قید ہوتے ہی عطا ہوتا ہے شاہی کا لباس
کوئی قیدی ترِے زِنداں سے نکلتا ہی نہیں
5
یادِ محبوب ہے ساؔجِد مِرے نغمات کی جاں
جذبۂ جاں کا سِوا نغمہ اُبلتا ہی نہیں