← نور و سرور
جو، میرے آقاؐ! تِری بارگاہ تک پہنچے
وہ لوگ چشمۂ نُورِ الٰہ تک پہنچے
جو اُن سے دور رہے وہ غموں سے چُور رہے
رہے مزے میں جو اُن کی پناہ تک پہنچے
کچھ ایسے لوگ بھی ہیں جو بفیضِ چشمِ کرم
نہ گھر سے نکلے مگر بارگاہ تک پہنچے
وہ بدنصیب سنواریں گے کیا نصیب اپنا
اُلجھ کے شاہ کے حال تباہ تک پہنچے
بفیضِ حق اُنہیں آیا نظر نشانِ جلی
وہ خُوش نصیب ہیں جو شاہراہ تک پہنچے
جو لوگ نان کو جویں کو ترتے رہتے تھے
بفیضِ لُطف وہ تاج و کلاہ تک پہنچے
گھری ہے اُمتِ مسلم یہود میں ساجد
خُدا کرے، مِری فریاد شاہؐ تک پہنچے