← حرفِ نیاز
1
دِل میں شوقِ نبیؐ سمایا ہے
ہم پہ تیرا کرم خُدایا! ہے
2
مست ہیں مصطفؐےٰ کے شیدائی
گو سبُو ہے نہ جام و مینا ہے
3
یا نبیؐ تیرے لُطف کے قُرباں!
تیری چشمِ کرم سہارا ہے
4
کس قدر ہے اُداس اُمت آج
اِک قیامت دِلوں میں برپا ہے
5
میرے خواجہؐ! مِری خبر لینا
میرا سرمایہ لُٹنے والا ہے
6
غم نہ کھا ساؔجِد حزیں مت رو
میرے آقا کا بول بالا ہے