شوقِ فراواں
1

اللہ جلوہِ عجب جہاں بغَل میں ہے

کتنی حسین بزمِ حسینؓ بغَل میں ہے

2

ہو لاکھ لاکھ تِیرَگی راہِ حیات میں

کیا خوف ہے کہ جملی⚠️ ایماں بغَل میں ہے

3

سب کچھ ہے دستیاب ہے اور آساں بھی

دارو کرب و چارہ دَرماں بغَل میں ہے

4

بینے میں اُن کے روشنی ہے دو جہاں کی

ذاتِ و صِفات کا چمنستاں⚠️ بغَل میں ہے

5

بھیلی سی ہر گھڑی ہے تمنا کے دشت میں

باراں ہے گردباد⚠️ ہے طوفاں بغَل میں ہے

6

کہتے ہیں اِضطِراب میں شام میں شام و سحر

اِک فعلہ⚠️ ہے کہ وجل⚠️ بمالِ کا ارماں بغَل میں ہے

7

مجھ کو یقیں ہے مغفرت ہو گی مِرے لیے

ساؔجِد نبیؐ کی نعت کا دیواں بغَل میں ہے