شوقِ فراواں

خُدا کے دین کا رخشندہ⚠️ آفتاب رہے

سدا نِگاہوں میں اللہ کی کتاب رہے

بعدِ نِیاز عمل ہو نبیؐ کی سُنّت پر

ہمارے چہروں پر رحمت کی آب و تاب رہے

جو ودِ نبیؐ بزمِ میں جاری ہے اُس خاص دور تھا⚠️

جو دِن نبیؐ کے ساتھ ہم سایہ باں رہے

اجسامِ اڑھتے خاک کی چادر ملغم⚠️ خواب

روحوں کے قافلے مگر جادہِ⚠️ نرواں⚠️ رہے

سوغاتیں⚠️ ہیں جو اکثر درود کی

بیری میں بھی وہ حوصلے والے جواں رہے

نِسبت جنہیں خُدا کے نبیؐ کی ہے بخشی

ہوشیار وہ ہمیشہ دمِ امتحاں رہے

یارب! نمازِ ڈانگی⚠️ دِل کو نصیب ہو

اپنے⚠️ نسمتوں⚠️ کا مِرا وِرد جاں رہے

ساجدؔ نہیں جُدا رہے آقا سے ہم کبھی

جاں اپنی اُن کے در پہ رہیں ہم جہاں رہے