← نور و سرور
1
اِک نشہ سا مُدام رہتا ہے
اُن سے دِل ہمکلام رہتا ہے
2
لِلّٰہِ الحمد، میری خَلوت میں
تذکرہ اُن کا عام رہتا ہے
3
ہے ابھی میرے دِل میں شوقِ درود
اے خُدا! میرا کام رہتا ہے
4
رشکِ یاقوت ہیں وہ لب جن پر
میرے آقاؐ کا نام رہتا ہے
5
تذکرہ اُن کے گیسو ؤ رُخ کا
صبح رہتا ہے شام رہتا ہے
6
نامکمل مِرا سفر ہے ابھی
اُن کے در کا سلام رہتا ہے
7
آج کل لحظہ لحظہ ساؔجِد کو
انتظارِ پَیام رہتا ہے