← نور و سرور
1
اُن کے جمالِ جاں فِزا کی بات چاہیے
ذِکرِ نبیؐ زبان پہ دِن رات چاہیے
2
ہر لحظہ آنسوؤں سے گریبان تر رہے
رحمت کی ہر گھڑی مجھے برسات چاہیے
3
مِدحتِ رسُولِؐ پاک کی ہے مُژدۂ بہار
ویران دِل کو بارشِ نغمات چاہیے
4
بَخشِش کی بھیک مانگ تُو حق کے حبیبؐ سے
وقت آ گیا تلافیِ؟ مافات چاہیے
5
نِسبت مِری ہو خاص درِ اہلِ بیت سے
آلِ نبیؐ کی چشمِ عِنایات چاہیے
6
درکار ہے مجھے بھی نَوازِش حضورؐ کی
اُن کے کرم کی مجھ کو بھی خیرات چاہیے
7
ساؔجِد ہے دِل میں شوق بکثرت پڑھوں درود
کچھ اُن کی نذر کرنے کو سوغات چاہیے