نور و سرور

اُن کے جمال، جاں فِزا کی بات چاہیے

ذِکرِ نبیؐ زبان پہ دِن رات چاہیے

ہر لمحہ آنسوؤں سے گریباں تر رہے

رحمت کی ہر گھڑی مجھے برسات چاہیے

مِدحتِ رسُولؐ پاک کی ہے مُژدۂ بہار

ویران دِل کو بارشِ نغمات چاہیے

بَخشِش کی بھیک مانگ تُو حق کے حبیبؐ سے

وقت آ گیا تلافیِ مافات چاہیے

نِسبت مِری ہو خاص درِ اہلِ بیت سے

آلِ نبیؐ کی چشمِ عِنایات چاہیے

درکار ہے مجھے بھی نَوازِشِ حضورؐ کی

اُن کے کرم کی مجھ کو بھی خیرات چاہیے

ساجد ہے دِل میں شوق بکثرت پڑھوں درود

کچھ اُن کی نذر کرنے کو سوغات چاہیے