حرفِ نیاز

شافعِ روزِ جزا ہیں مصطفیٰ

دافعِ رنج و بلا ہیں مصطفیٰ

معدنِ حلم و حیا ہیں مصطفیٰ

مخزنِ جو دو عطا ہیں مصطفیٰ

پَیکرِ مہر و وفا ہیں مصطفیٰ

سر بسر صِدق و صفا ہیں مصطفیٰ

عرش کی زینت ہیں مالکِ خُلد کے

رونقِ ارض و سما ہیں مصطفیٰ

ہیں امیرِ اُنس و جاں خاتمِ رُسُلؐ

افتخارِ انبیاء ہیں مصطفیٰ

بے نَواؤں پر ہے شفقت آپؐ کی

ہے سہاروں کا سہارا مصطفیٰ

اب سفینے کو کوئی خطرہ نہیں

بحرِ غم میں ناخدا ہیں مصطفیٰ

آپؐ کے رُخ سے عَیاں ہے نُورِ حق

نُورِ ذاتِ کِبریا ہیں مصطفیٰ

کیسے ہو ساجدؔ بیاں وصفِ نبیؐ

جلوۂ حُسنِ خُدا ہیں مصطفیٰ