شوقِ فراواں
1

دِل کی نِسبت جب سے سرکارؐ سے ہے

اپنی جاں آزاد آزار سے ہے

2

جلوہ حق دیکھنا ممکِن نہیں

شِرک آلودہ دِل بیمار سے ہے

3

قُرب اگر اللہ کا مقصود ہے

بچیے⚠️ کہیں اللہ شیرِ⚠️ ابرار سے ہے

4

ہو ادا کیسے نماز باحضور

پوچھیے یہ عارِف ہشیار سے ہے

5

اِس کے فروں⚠️ میں محبت ہے یقیں

دِل سے ملتے ہیں دِل احَد کے کہسار سے ہے

6

نکبت آتی آتی ہے ضرور

آپؐ کے ہر ایک خِدمت گار سے ہے

7

اب کے ساؔجِد گُل⚠️ عطر گُل

آپؐ کے خُوشبو بھرے بازار سے ہے